Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5410 (سنن النسائي)

[5410]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْہِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتَّی سَمِعَہُمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي بَيْتِہِ فَخَرَجَ إِلَيْہِمَا فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِہِ فَنَادَی يَا كَعْبُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ ہَذَا وَأَوْمَأَ إِلَی الشَّطْرِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ قُمْ فَاقْضِہِ

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس کے ذمے تھا۔ہماری آوازیں اونچی ہو گئیں حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سن لیں۔آپ اپنے گھر میں تشریف فرماتھے۔آپ باہر تشریف لائے۔اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ ہٹایا اور بلند آواز سے فرمایا: ’’اے کعب!‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا: ’’اتنا معاف کردے۔‘‘ اور ہاتھ سے نصف کا اشارہ فرمایا۔میں نے کہا: مان لیا۔آپ نے (ابن ابی حدرد سے) فرمایا: ’’اٹھ اور باقی ادا کر۔‘‘