Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5411 (سنن النسائي)

[5411]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَزِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ قَدِمْتُ مَعَ عُمُومَتِي الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِہَا فَفَرَكْتُ مِنْ سُنْبُلِہِ فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَخَذَ كِسَائِي وَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَسْتَعْدِي عَلَيْہِ فَأَرْسَلَ إِلَی الرَّجُلِ فَجَاءُوا بِہِ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَی ہَذَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّہُ دَخَلَ حَائِطِي فَأَخَذَ مِنْ سُنْبُلِہِ فَفَرَكَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا عَلَّمْتَہُ إِذْ كَانَ جَاہِلًا وَلَا أَطْعَمْتَہُ إِذْ كَانَ جَائِعًا ارْدُدْ عَلَيْہِ كِسَاءَہُ وَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ بِوَسْقٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ

حضرت عباد بن شرجیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فر مایا: میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔میں ایک باغ میں داخل ہوا اور میں نے کچھ سٹے توڑ کر ان کے دانے نکال لیے۔باغ کا مالک آیا،اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا بھی۔میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور دعویٰ دائر کر دیا۔آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔لوگو اس کے لے کر آپ کے پاس آئے۔آپ نے فرمایا: ’’تو نے ایسے کیوں کیا؟‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول یہ میرے باغ میں داخل ہوا۔اس نے کچھ سٹے توڑے اور ان کے دانے نکال لیے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ جاہل تھا،تو نے اسے تعلیم نہ دی۔یہ بھوکا تھا،تونے اسے کھانے کو نہ دیا۔اس کی چادر واپس کر۔‘‘ اور مجھے ایک یا نصف وسق دینے کا حکم جاری فرمایا۔