Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5413 (سنن النسائي)

[5413]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ قَالُوا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَامَ إِلَيْہِ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللہِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللہِ فَقَامَ خَصْمُہُ وَكَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللہِ قَالَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَی ہَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِہِ فَافْتَدَيْتُ مِنْہُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ وَكَأَنَّہُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَی ابْنِہِ الرَّجْمَ فَافْتَدَی مِنْہُ ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَی ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَی امْرَأَةِ ہَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْہَا فَغَدَا عَلَيْہَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَہَاٍ

حضرت ابو ہریرہ،خالد بن زید اور شبل رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ ہم نبیٔ اکرم ﷺ کے پاس حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔پھر فریق ثانی بھی اٹھا جو کہ پہلے شخص سے زیادہ سمجھ دار تھا اور کہا: یہ صحیح کہتا ہے۔آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔آپ نے فرمایا: ’’بات کرو۔‘‘ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں نوکر تھا۔اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔میں نے سو بکریاں اور ایک نوکر دے کر اپنےبیٹے کی جان بخشی کروائی۔گویا کہ اس شخص کو بتلایا گیا تھا کہ اس کے بیٹے کو رجم کر دیا جائے گا،اس لیے اس نے اس طریقے سے اس کی جان بخشی کروائی۔پھر میں نے بہت سے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہوگا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔تیری سوبکریاں اور نوکر تجھے واپس مل جائیں گے۔تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے۔اور اے انیس! تو اس کی بیوی کے پاس جا۔اگر وہ جرم تسلیم تو اسے رجم کردے۔‘‘ وہ اس کے پاس گئے،اور اس (عورت) نے مان لیا تو انہوں نے سے رجم کردیا۔