Sunan Al-Nasai Hadith 5416 (سنن النسائي)
[5416]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّہُ كَانَ لَہُ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا فَلَقِيَہُ فَلَزِمَہُ فَتَكَلَّمَا حَتَّی ارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ فَمَرَّ بِہِمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ يَا كَعْبُ فَأَشَارَ بِيَدِہِ كَأَنَّہُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْہِ وَتَرَكَ نِصْفًا
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی کے ذمے قرض تھا۔وہ اسے ملے تو انہوں نے اسے پکڑلیا۔پھر وہ دونوں جھگڑنے لگے حتیٰ کہ (ان کی) آوازیں بلند ہوئیں،پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے اور فرمایا: ’’کعب!‘‘ نیز آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔مقصد یہ تھا کہ نصف معاف کردے۔انہوں نے نصف لے لیا اور نصف معاف کردیا۔