Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5452 (سنن النسائي)

[5452]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُہُنَّ اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْہَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ ہَذَا الصَّوَابُ وَحَدِيثُ ابْنُ فُضَيْلٍ خَطَأٌ

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ کچھ دعائیں رسول اللہﷺکی عادت بن چکی تھیں کبھی چھوڑتے تھے۔’’اے اللہ!میں فکر و غم ‘عجز و سستی ‘بخل اور قرض‘نیز لوگوں کے غلبے سےتیری پناہ آتا ہوں۔‘‘امام ابو عبد الرحمٰن(نسائی ﷫) نے کہا یہ حدث درست ہے اور صحیح ہے جبکہ ابن فضیل کی (اس سے پہلی)حدیث غلط ہے۔