Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5524 (سنن النسائي)

[5524]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَہُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ سَيِّدَ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ اللہُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَی عَہْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّہُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَإِنْ قَالَہَا حِينَ يُصْبِحُ مُوقِنًا بِہَا فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنْ قَالَہَا حِينَ يُمْسِي مُوقِنًا بِہَا دَخَلَ الْجَنَّةَ خَالَفَہُ الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ

حضرت شدادبن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ اکرم ﷺنےفرمایا:’’’سب سے اہم اورافضل استغفار یہ ہے کہ بندہ کہے:اے اللہ!تومیرا رب ہے۔تیرے سواکوئی معبودنہیں۔تومیرا خالق ہے۔میں تیرابندہ ہوں۔اورمیں اپنی طاقت واستطاعت کےمطابق تجھ سے کیے ہوئے عہدووعدے پرقائم ہوں۔میں اپنےگناہوں کےشرسےتیری پناہ چاہتاہوں۔میں اپںے ہرقسم کےگناہوں کااعتراف کرتاہوں اوراپنے آپ پرتیری نوازشات کااقرار کرتاہوں لہذامجھے معاف فرما کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا۔‘‘اگرکوئی شخص یقین وایمان کےساتھ صبح کےوقت یہ کلمات پڑھے پھر مرجائےتو(لازماً)جنت میں داخل ہوگا اوراگر شام کےوقت یہی کلمات یقین وایمان رکھتے ہوئے کہے(ورمرجائے)تو(لازماً)جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ولید ببن ثعلبہ نےاس (حسین المعلم) کی مخالفت کی ہے