Sunan Al-Nasai Hadith 5536 (سنن النسائي)
[5536]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ ہِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَبْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي فِرَاشِي فَلَمْ أُصِبْہُ فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَی رَأْسِ الْفِرَاشِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَی أَخْمَصِ قَدَمَيْہِ فَإِذَا ہُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کواپنے بستر پرتلاش کیالیکن آپ مجھے نہ ملے۔میں نے اپنا ہاتھ بستر کےسرہانے کی جانب مارا تو میرا ہاتھ آپ کےمبارک پاؤں کےتلووں پرلگا۔آپ سجدے کی حالت میں تھے اورفرما رہے تھے(اے اللہ!) میں تیری سزا سےے بچنے کےلیے تیر معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔تیری ناراضی سے بچنے کےلیے تیری رضامندی کی پناہ حاصل کرتاہوں۔اورتجھ سے (تیرے عذاب سے بچنے کےلیے)تیری پناہ لیتا ہوں۔‘‘