Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5613 (سنن النسائي)

[5613]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنَ خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَصُومُ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَہُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُہُ لَہُ فِي دُبَّاءٍ فَجِئْتُہُ بِہِ فَقَالَ أَدْنِہِ فَأَدْنَيْتُہُ مِنْہُ فَإِذَا ہُوَ يَنِشُّ فَقَالَ اضْرِبْ بِہَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ ہَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَفِي ہَذَا دَلِيلٌ عَلَی تَحْرِيمِ السَّكَرِ قَلِيلِہِ وَكَثِيرِہِ وَلَيْسَ كَمَا يَقُولُ الْمُخَادِعُونَ لِأَنْفُسِہِمْ بِتَحْرِيمِہِمْ آخِرِ الشَّرْبَةِ وَتَحْلِيلِہِمْ مَا تَقَدَّمَہَا الَّذِي يُشْرَبُ فِي الْفَرَقِ قَبْلَہَا وَلَا خِلَافَ بَيْنَ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ السُّكْرَ بِكُلِّيَّتِہِ لَا يَحْدُثُ عَلَی الشَّرْبَةِ الْآخِرَةِ دُونَ الْأُولَی وَالثَّانِيَةِ بَعْدَہَا وَبِاللہِ التَّوْفِيقُ

حضرت ابو ہریرہ ﷜ نے فرمایا:مجھے علم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا ہے تو میں نے آپ کی افطار ی کے لیے کدو کے برتن میں نبیذ تیار کر کے ایک طرف رکھ چھوڑی۔پھر افطاری کے وقت میں وہ نبیذ لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نےفرمایا: ’’(میرے)قریب کرو۔،،میں نے وہ آپ کے قریب کی تو وہ جو ش مارہی تھی۔آپ نے فرمایا: ’’اسے اس دیوار پر دے مارو۔اس قسم کی نبیذ تو وہ لوگ پیتے ہیں جو اللہ تعالی اور آخرت کو نہیں مانتے۔،،ابو عبد الرحمان (امام نسائی) ﷫ نے فرمایا: اس حدیث میں دلیل ہے کہ نشہ آور چیز قلیل بھی حرام ہے کثیر بھی،نہ کہ جیسے اپنے آپ کو دھوکا دینے والے لوگ کہتے ہیں کہ آخر ی گھونٹ جس سے نشہ آیا،حرام ہے۔پہلے گھونٹ حلال ہیں،خواہ وہ ایک فرق پی لے،حالانکہ اہل علم اس باب پر متفق ہیں کہ نشہ صرف آخری گھونٹ سے ہی پیدا نہیں ہو تا بلکہ پہلے گھونٹ بھی نشے ولے ہی ہیں اللہ تعالی ہی تو فیق دینے والا ہے۔