Sunan Al-Nasai Hadith 585 (سنن النسائي)
[585] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (1364،1251)
عبد الرحمٰن بن البیلماني ضعیف۔
ولبعض الحدیث شاھد عند مسلم (832)۔
والحدیث السابق (572) یغني عنہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ وَأَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَسَنٌ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ مَنْ أَسْلَمَ مَعَكَ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قُلْتُ ہَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُخْرَی قَالَ نَعَمْ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَصَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّی تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ انْتَہِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ وَقَالَ أَيُّوبُ فَمَا دَامَتْ كَأَنَّہَا حَجَفَةٌ حَتَّی تَنْتَشِرَ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّی يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَی ظِلِّہِ ثُمَّ انْتَہِ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَہَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّہَارِ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ انْتَہِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّہَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! (سب سے پہلے) آپ پر کون ایمان لایا؟ آپ نے فرمایا: ’’ایک آزاد (ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ) اور ایک غلام (حضرت بلال رضی اللہ عنہ)۔‘‘ میں نے کہا: کوئی وقت اللہ تعالیٰ کے ہاں دوسرے وقت سے زیادہ قرب والا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں،رات کا آخری نصف،لہٰذا تم نماز پڑھو جس قدر تم چاہو یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھو،پھر سورج طلوع ہونے تک رک جاؤ جب تک کہ وہ ڈھال کی طرح رہے۔جب وہ پھیل جائے تو جس قدر چاہو نماز پڑھو حتیٰ کہ ستون اپنے سائے پر کھڑا ہوجائے۔پھر رک جاؤ حتیٰ کہ سورج ڈھل جائے کیونکہ دوپہر کے وقت جہنم بھڑکایا جاتا ہے،پھر جس قدر چاہو نماز پڑھو حتیٰ کہ عصر کی نماز پڑھ لو،پھر رک جاؤ حتیٰ کہ سورج غروب ہوجائے کیونکہ وہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع و غروب ہوتا ہے۔‘‘