Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 588 (سنن النسائي)

[588]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْہِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَہُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم غزوۂ تبوک کے سال (۹ہجری میں) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو اللہ کےر سول ﷺ ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا کرتے تھے۔ایک دن آپ نے ظہر کی نماز کو مؤخر فرمایا،پھر باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں۔پھر اندر چلے گئے،پھر تشریف لائے اور مغرب اور عشاء اکٹھی کرکے پڑھیں۔