Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 598 (سنن النسائي)

[598] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث السابق (589)

انوار الصحیفہ ص 324

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا قَالَ سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ عَنْ الصَّلَاة فِي السِّفْر فَقُلْنَا أَكَانَ عَبْدُ اللہِ يَجْمَعُ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لَا إِلَّا بِجَمْعٍ ثُمَّ أَتَيْتُہُ فَقَالَ كَانَتْ عِنْدَہُ صَفِيَّةُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْہِ أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ الْآخِرَةِ فَرَكِبَ وَأَنَا مَعَہُ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّی حَانَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ لَہُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَسَارَ حَتَّی إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ نَزَلَ فَقَالَ لِلْمُؤَذِّنِ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ مِنْ الظُّہْرِ فَأَقِمْ مَكَانَكَ فَأَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَہُ فَصَلَّی الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّی غَابَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ لَہُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ كَفِعْلِكَ الْأَوَّلِ فَسَارَ حَتَّی إِذَا اشْتَبَكَتْ النُّجُومُ نَزَلَ فَقَالَ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَہُ فَصَلَّی الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ سَلَّمَ وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْہِہِ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ أَمْرٌ يَخْشَی فَوْتَہُ فَلْيُصَلِّ ہَذِہِ الصَّلَاةَ

حضرت کثیر بن قاروندا نے کہا کہ ہم نے حضرت سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا،ہم نے کہا: کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں نمازوں کو جمع کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں سوائے مزدلفہ کے۔پھر وہ چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ بنت ابوعبید تھیں۔انھوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میں دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں،چنانچہ آپ سوار ہوئے۔میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔وہ بہت تیزی سے چلے حتیٰ کہ نماز کا وقت آگیا۔مؤذن نے آپ سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! نمازپڑھ لیجیے۔آپ چلتے رہے حتیٰ کہ جب دو نمازوں کا درمیانی وقت آگیا تو آپ اترے اور مؤذن سے کہا کہ اقامت کہو۔جب میں ظہر کی نماز سے سلام پھیروں تو اسی جگہ اقامت کہہ دینا۔اس نے اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھیں،پھر سلام پھیرا،پھر اسی جگہ عصر کی اقامت کہلوائی اور عصر کی نماز دو رکعت پڑھی،پھر سوار ہوگئے اور خوب تیز چلے حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔مؤذن نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھیے۔آپ نے فرمایا: جس طرح تو نے پہلے کیا ہے اسی طرح کرنا۔پھر آپ چلتے رہے حتیٰ کہ ستارے گھنے ہوگئے تو اترے اور فرمایا کہ اقامت کہہ،پھر جب میں (نماز مغرب سے) سلام پھیروں تو پھر تکبیر کہنا۔اس نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں،پھر اس نے اسی جگہ اقامت کہی تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھی،پھر آپ نے سامنے کی طرف ایک دفعہ سلام کہا،پھر کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو ایسا کام پڑجائے جس کے ضائع ہونے کا اسے خطرہ ہو تو وہ اس طرح نماز پڑھے۔‘‘