Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 613 (سنن النسائي)

[613]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَكِيمٍ وَعَمْرُو بْنُ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاة فَجُعِلُوا يُنْتَظَرُونَہُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ قَال وَسُئِلَ عَبْدُ اللہِ ہَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ قَالَ نَعَمْ وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ وَحَدَّثَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ نَامَ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی طَلَعَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی

حضرت محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ جماعت کے لیے اقامت کہی گئی۔پھر لوگ ان کا انتظار کرنے لگے۔(وہ آئے تو) انھوں نے فرمایا: میں وتر پڑھ رہا تھا۔انھوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا اذانِ فجر کے بعد وتر پڑھ سکتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں،بلکہ اقامت کے بعد بھی،پھر انھوں نے نبی ﷺ کا واقعہ بیان فرمایا کہ ایک دن آپ نمازفجر سے سوئے رہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہوگیا،پھر آپ نے نماز ادا فرمائی۔یہ لفظ یحییٰ کے ہیں۔