Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 622 (سنن النسائي)

[622] إسنادہ ضعیف

عطاء بن السائب اختلط ولم یحدث بہ قبل اختلاطہ۔

انوار الصحیفہ ص 325

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْہِ الصُّبْحِ نَزَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّی الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی بِالنَّاسِ ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا ہُوَ كَائِنٌ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ

حضرت ابومریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ہم ساری رات چلتے رہے۔جب صبح طلوع ہونے کو تھی تو اللہ کے رسول ﷺ سواری سے اترے اور سوگئے اور لوگ بھی سوگئے۔ہمیں اس وقت جاگ آئی جب سورج ہم پر طلوع ہوچکا تھا،چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان کہی،پھر آپ نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں،پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی،پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی،پھر ہمیں بیان کیا جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا۔