Sunan Al-Nasai Hadith 633 (سنن النسائي)
[633]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ الْحَسَنِ وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَہُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّی جَہَّزَہُ إِلَی الشَّامِ قَالَ يَالَ لِأَبِي مَحْذُورَةَ إِنِّي خَارِجٌ إِلَی الشَّامِ وَأَخْشَی أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَہُ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْہُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيہِ وَنَہْزَأُ بِہِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّی وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَيُّكُمْ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَہُ قَدْ ارْتَفَعَ فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَہُمْ كُلَّہُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ فَقُمْتُ فَأَلْقَی عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ التَّأْذِينَ ہُوَ بِنَفْسِہِ قَالَ قُلْ اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ثُمَّ قَالَ ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ ثُمَّ قَالَ قُلْ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيہَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ فَقَالَ أَمَرْتُكَ بِہِ فَقَدِمْتُ عَلَی عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَہُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللہِ ﷺ
حضرت عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے…… وہ یتیم تھے اور انھوں نے حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی تھی حتی کہ خود ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے انھیں شام کی طرف تیار کرکے بھیجا…… انھوں نے فرمایا: میں نے (شام آتے وقت) حضرت ابومحذورہ سے گزارش کی کہ میں شام جا رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہاں مجھ سے آپ کی اذان کے بارے میں پوچھا جائے گا (آپ مجھے کچھ بتا دیجیے)۔تو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا۔ہم حنین کے راستے میں تھے کہ اللہ کے رسول ﷺ حنین سے واپس تشریف لائے اور آپ راستے ہی میں ہمیں ملے۔رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے آپ کی موجودگی میں نماز کی اذان کہی۔ہم آپ سے کچھ دور تھے۔ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو ہم ان کی نقل اتارنے لگے اور مذاق کرنے لگے۔رسول اللہ ﷺ نے وہ آواز سن لی تو آپ نے ہمیں بلوایا حتی کہ ہم آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے وہ کون ہے جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟‘‘ میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انھوں نے سچ کہا۔آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے ٹھہرا لیا اور فرمایا: ’’اٹھو نماز کی اذان کہو۔‘‘ میں اٹھا تو اللہ کے رسول ﷺ نے بنفس نفیس مجھے اذان سکھائی۔آپ نے فرمایا: ’’کہو: اللہ اکبر اللہ اکبر،اللہ اکبر اللہ اکبر،اشھد ان لا الہ الا اللہ،اشھد ان لا الہ الا اللہ،اشھد ان محمدا رسول اللہ،اشھد ان محمدا رسول اللہ۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’اپنی آواز بلند کرو اور دو بار کہو: اشھد ان لا الہ الا اللہ،اشھد ان لا الہ اللہ اللہ،اشھد ان محمدا رسول اللہ،اشھد ان محمدا رسول اللہ،حی علی الصلاۃ،حی علی الصلاۃ،حی علی الفلاح،حی علی الفلاح،اللہ اکبر اللہ اکبر،لا الہ الا اللہ۔‘‘ پھر جب میں نے اذان مکمل کر لی تو آپ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے مکہ مکرمہ میں اذان پر مقرر فرما دیجیے۔آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمھیں مقرر کردیا۔‘‘ تو میں رسول اللہ ﷺ کے مقرر کیے ہوئے گورنر مکہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔پھر میں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے گورنر کے سامنے اذان کہتا رہا۔