Sunan Al-Nasai Hadith 645 (سنن النسائي)
[645]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَازِنِيُّ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَہُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ فَإِنَّہُ لَا يَسْمَعُ مَدَی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَہِدَ لَہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو صعصعہ انصاری سے کہا: تحقیق میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحرا کے دلدادہ ہو،اس لیے جب تم اپنی بکریوں اور صحرا میں ہو اور تم اذان کہو تو بلند آواز سے اذان کہا کرو،اس لیے کہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن و انس یا کوئی اور چیز اسے سنتی ہے،قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ بات اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے۔