Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 68 (سنن النسائي)

[68]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْہَا ثُمَّ ذَكَرَتْ كَلِمَةً مَعْنَاہَا فَسَكَبْتُ لَہُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ ہِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْہُ فَأَصْغَی لَہَا الْإِنَاءَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْہِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِنَّہَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا ہِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ

کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے،پھر کبشہ نے ایسے الفاظ کہے جن کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کے لیے برتن میں وضو کا پانی ڈالا۔چنانچہ ایک بلی آئی اور اس سے پانی پینا شروع کردیا۔انھوں نے بلی کے لیے برتن جھکا دیا (تاکہ وہ آسانی سے پی لے) بلی نے پانی پی لیا۔کبشہ نے کہا کہ انھوں نے مجھے دیکھا کہ میں (حیرانی سے) ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو کہنے لگے: اے بھتیجی! کیا تجھے اس پر تعجب ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔و کہنے لگے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: ’’بلاشبہ بلی پلید نہیں کیونکہ یہ تم پر آنے جانے والے نوکروں اور نوکرانیوں (یاسائلین) کی طرح ہے۔‘‘