Sunan Al-Nasai Hadith 75 (سنن النسائي)
[75]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْہِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ح و أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَہُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَی فَمَنْ كَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ وَمَنْ كَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْيَا يُصِيبُہَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَيْہِ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اعمال کا اعتبار نیت سے ہے۔ہر آدمی کو اس کی نیت کے طمابق اجر ملے گا،چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہے تو اس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف سمجھی جائے گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہے تو اس کی ہجرت اس چیز کی طرف سمجھی جائے گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔‘‘