Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 77 (سنن النسائي)

[77]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَدْخَلَ يَدَہُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِہِ وَيَقُولُ حَيَّ عَلَی الطَّہُورِ وَالْبَرَكَةِ مِنْ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ کے پاس پانی کا ایک تھال لایا گیا،چنانچہ آپ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا۔اللہ کی قسم! میں نے آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹتا دیکھا۔آپ فرماتے تھے: ’’آئو اس پاک پانی پر اور اللہ عزوجل کی برکت کی طرف۔‘‘ اعمش کہتے ہیں: سالم بن ابوجعد نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم اس دن کتنے تھے؟ انھوں نے فرمایا: پندرہ سو۔