تعارف
الحافظ ابو معاذ زبیر بن مجدد علی زئی رحمہ اللہ 25 جون 1957ء (بمطابق 27 ذوالقعدہ 1376ھ) کو پنجاب، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں پیرداد (حضرو، ضلع اٹک) میں پیدا ہوئے۔
آپ کے آبا و اجداد کا تعلق غزنی (افغانستان) سے تھا اور وہ مشہور پشتون قبیلے علی زئی سے تعلق رکھتے تھے — اسی نسبت سے آپ "علی زئی" کہلائے۔
1982ء میں آپ کی شادی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا۔ آپ کے بیٹے عبد اللہ ثاقب اور معاذ بن زبیر حافظِ قرآن ہیں اور اشاعۃ الحدیث اینڈرائیڈ ایپ کے ذریعے اپنے والدِ محترم کا علمی کام آن لائن شائع کر رہے ہیں۔
ذاتی معلومات
نسب نامہ: ابو طاہر و ابو معاذ محمد زبیر عرف حافظ زبیر علی زئی بن مجدد خان بن دوست محمد خان بن جہانگیر خان بن امیر خان بن شہباز خان بن کرم خان بن گل محمد خان بن پیر محمد خان بن آزاد خان بن اللہ داد خان بن عمر خان بن خواجہ محمد خان علی زئی افغانی پاکستانی۔
مسلک: السلفی الاثری المحمدی، اہلِ حدیث یعنی اہل السنۃ والجماعۃ۔ والحمد للہ
وفات: 10 نومبر 2013ء کو بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں وفات پائی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
تعلیم
شیخ رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جو اب ترقی کر کے ایک قصبہ بن چکا ہے۔ آپ جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ اور وفاق المدارس السلفیہ فیصل آباد سے فارغ التحصیل ہوئے، اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کی ڈگریاں حاصل کیں۔
تقریباً 15 یا 16 سال کی عمر میں آپ کے سگے چچا نے آپ کو صحیح بخاری تحفے میں دی — یہ دینی علم کی طرف آپ کا پہلا قدم تھا۔
آپ کو اپنے دور کے جلیل القدر علماء سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، جنہیں آپ ہمیشہ انتہائی ادب و احترام اور شکر گزاری کے ساتھ یاد کرتے تھے۔
اساتذۂ کرام
- عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (وفات: 1408ھ)
- ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی سندھی (وفات: 1415ھ)
- ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی سندھی (وفات: 1416ھ)
- ابو الفضل فیض الرحمٰن ثوری (وفات: 1417ھ)
- ابو الرجال اللہ دتہ سوہدروی لاہوری (وفات: 1422ھ)
- حافظ عبد المنان نورپوری (وفات: 1433ھ)
- حافظ عبد الحمید ازہر (وفات: 1437ھ)
- اور بہت سے دیگر علمائے کرام رحمہم اللہ
آپ کو ان اساتذہ سے اجازتِ روایت حاصل تھی، اور ان میں سے بعض سے بہت زیادہ استفادہ کیا، مثلاً شیخ ابو الرجال، حافظ عبد الحمید ازہر اور شیخ بدیع الدین راشدی سندھی رحمہم اللہ۔
علمی خدمات و تحقیق
آپ نے 120 سے زائد کتب تصنیف و تحقیق فرمائیں، جن میں سے تقریباً نصف ابھی شائع ہونا باقی ہیں۔ سُنَنِ اربعہ (حدیث کی چار بڑی کتب) کی تحقیق و تخریج میں آپ کی خدمات نہایت نمایاں ہیں۔ آپ کو علم اسماء الرجال پر عبور حاصل تھا، اور آپ بلاشبہ حافظِ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ حافظِ حدیث بھی تھے۔
جن کتب کی آپ نے تحقیق و تخریج کی، ان میں سے چند:
- سنن ابی داود
- سنن الترمذی
- سنن النسائی
- سنن ابن ماجہ
- صحیح ابن خزیمہ
- مشکوٰۃ المصابیح
- موطأ امام مالک (روایۃ یحییٰ و ابن القاسم)
- مسند الحمیدی
- تفسیر ابن کثیر
- سیرت ابن ہشام
- الفتن والملاحم
- آثار السنن للنیموی
- طبقات المدلسین
- کتاب الضعفاء للبخاری
- اثبات عذاب القبر للبیہقی
چند مشہور شاگرد
- حافظ ندیم ظہیر
- حافظ شیر محمد
- شیخ تنویر الحق ہزاروی
- شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری
زبانیں
آپ کی مادری زبان ہندکو تھی، جبکہ پشتو آپ نے 1990ء کے بعد سیکھی۔ آپ کو دو زبانیں بہت زیادہ پسند تھیں: عربی اور پشتو — اور دونوں میں آپ کو غیر معمولی مہارت اور روانی حاصل تھی۔
- ہندکو (مادری)
- پشتو
- پنجابی
- اردو
- عربی
- انگریزی
- یونانی
- فارسی
- عبرانی (پڑھ سکتے تھے)
علمائے کرام کے تاثرات
شیخ عبد الحمید رحمتی رحمہ اللہ
حوالہ: محدث العصر نمبر، ماہنامہ الحدیث حضرو، ص 334
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ
حوالہ: محدث العصر نمبر، ماہنامہ الحدیث حضرو، ص 178
مولانا رفیق اثری حفظہ اللہ
حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114
شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114
شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ
حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114
شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114
شیخ عبد الستار حماد حفظہ اللہ
حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114
📖 شیخ رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر خصوصی شمارہ: محدث العصر نمبر — ماہنامہ الحدیث حضرو
تصاویر
مزید دیکھیں
آبائی علاقہ — حضرو، پنجاب
نوٹ: یہ ویب سائٹ شیخ رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ معاذ بن زبیر علی زئی کے زیرِ انتظام ہے۔