حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

الحافظ أبو معاذ زبير بن مجدد العليزئي رحمه الله

25 جون 1957ء  —  10 نومبر 2013ء

👤تعارف

الحافظ ابو معاذ زبیر بن مجدد علی زئی رحمہ اللہ 25 جون 1957ء (بمطابق 27 ذوالقعدہ 1376ھ) کو پنجاب، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں پیرداد (حضرو، ضلع اٹک) میں پیدا ہوئے۔

آپ کے آبا و اجداد کا تعلق غزنی (افغانستان) سے تھا اور وہ مشہور پشتون قبیلے علی زئی سے تعلق رکھتے تھے — اسی نسبت سے آپ "علی زئی" کہلائے۔

1982ء میں آپ کی شادی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا۔ آپ کے بیٹے عبد اللہ ثاقب اور معاذ بن زبیر حافظِ قرآن ہیں اور اشاعۃ الحدیث اینڈرائیڈ ایپ کے ذریعے اپنے والدِ محترم کا علمی کام آن لائن شائع کر رہے ہیں۔

📋ذاتی معلومات

تاریخِ پیدائش
25 جون 1957ء
ہجری تاریخِ پیدائش
27 ذوالقعدہ 1376ھ
تاریخِ وفات
10 نومبر 2013ء
ہجری تاریخِ وفات
5 محرم 1435ھ
عمر
56 سال
اولاد
3 بیٹے اور 4 بیٹیاں
آبائی علاقہ
حضرو، پنجاب، پاکستان
تصانیف و تحقیقات
120 سے زائد کتب

نسب نامہ: ابو طاہر و ابو معاذ محمد زبیر عرف حافظ زبیر علی زئی بن مجدد خان بن دوست محمد خان بن جہانگیر خان بن امیر خان بن شہباز خان بن کرم خان بن گل محمد خان بن پیر محمد خان بن آزاد خان بن اللہ داد خان بن عمر خان بن خواجہ محمد خان علی زئی افغانی پاکستانی۔

مسلک: السلفی الاثری المحمدی، اہلِ حدیث یعنی اہل السنۃ والجماعۃ۔ والحمد للہ

وفات: 10 نومبر 2013ء کو بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں وفات پائی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

🎓تعلیم

شیخ رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جو اب ترقی کر کے ایک قصبہ بن چکا ہے۔ آپ جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ اور وفاق المدارس السلفیہ فیصل آباد سے فارغ التحصیل ہوئے، اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کی ڈگریاں حاصل کیں۔

تقریباً 15 یا 16 سال کی عمر میں آپ کے سگے چچا نے آپ کو صحیح بخاری تحفے میں دی — یہ دینی علم کی طرف آپ کا پہلا قدم تھا۔

آپ کو اپنے دور کے جلیل القدر علماء سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، جنہیں آپ ہمیشہ انتہائی ادب و احترام اور شکر گزاری کے ساتھ یاد کرتے تھے۔

🕌اساتذۂ کرام

  • عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (وفات: 1408ھ)
  • ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی سندھی (وفات: 1415ھ)
  • ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی سندھی (وفات: 1416ھ)
  • ابو الفضل فیض الرحمٰن ثوری (وفات: 1417ھ)
  • ابو الرجال اللہ دتہ سوہدروی لاہوری (وفات: 1422ھ)
  • حافظ عبد المنان نورپوری (وفات: 1433ھ)
  • حافظ عبد الحمید ازہر (وفات: 1437ھ)
  • اور بہت سے دیگر علمائے کرام رحمہم اللہ

آپ کو ان اساتذہ سے اجازتِ روایت حاصل تھی، اور ان میں سے بعض سے بہت زیادہ استفادہ کیا، مثلاً شیخ ابو الرجال، حافظ عبد الحمید ازہر اور شیخ بدیع الدین راشدی سندھی رحمہم اللہ۔

📚علمی خدمات و تحقیق

آپ نے 120 سے زائد کتب تصنیف و تحقیق فرمائیں، جن میں سے تقریباً نصف ابھی شائع ہونا باقی ہیں۔ سُنَنِ اربعہ (حدیث کی چار بڑی کتب) کی تحقیق و تخریج میں آپ کی خدمات نہایت نمایاں ہیں۔ آپ کو علم اسماء الرجال پر عبور حاصل تھا، اور آپ بلاشبہ حافظِ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ حافظِ حدیث بھی تھے۔

جن کتب کی آپ نے تحقیق و تخریج کی، ان میں سے چند:

  • سنن ابی داود
  • سنن الترمذی
  • سنن النسائی
  • سنن ابن ماجہ
  • صحیح ابن خزیمہ
  • مشکوٰۃ المصابیح
  • موطأ امام مالک (روایۃ یحییٰ و ابن القاسم)
  • مسند الحمیدی
  • تفسیر ابن کثیر
  • سیرت ابن ہشام
  • الفتن والملاحم
  • آثار السنن للنیموی
  • طبقات المدلسین
  • کتاب الضعفاء للبخاری
  • اثبات عذاب القبر للبیہقی

🎓چند مشہور شاگرد

  • حافظ ندیم ظہیر
  • حافظ شیر محمد
  • شیخ تنویر الحق ہزاروی
  • شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری

🗣️زبانیں

آپ کی مادری زبان ہندکو تھی، جبکہ پشتو آپ نے 1990ء کے بعد سیکھی۔ آپ کو دو زبانیں بہت زیادہ پسند تھیں: عربی اور پشتو — اور دونوں میں آپ کو غیر معمولی مہارت اور روانی حاصل تھی۔

  • ہندکو (مادری)
  • پشتو
  • پنجابی
  • اردو
  • عربی
  • انگریزی
  • یونانی
  • فارسی
  • عبرانی (پڑھ سکتے تھے)

💬علمائے کرام کے تاثرات

شیخ عبد الحمید رحمتی رحمہ اللہ

هو أبو طاهر زبير بن مجدد خان العلي زئي، الإمام الحافظ الناقد، شيخ المحدثين، الحضروي، الغزنوي الأصل، كان من بحور العلم، طوّف البلاد، وبرع في المتن والإسناد، وجمع وصنّف، وجرح وعدّل، وصحّح وعلّل.
ترجمہوہ ابو طاہر زبیر بن مجدد خان علی زئی ہیں: امام، حافظ، ناقد اور شیخ المحدثین، حضرو کے رہنے والے اور اصلاً غزنوی۔ وہ علم کے سمندروں میں سے تھے؛ انہوں نے ملک ملک کا سفر کیا، متن اور سند (دونوں) میں مہارت حاصل کی، جمع و تصنیف کی، جرح و تعدیل کی اور تصحیح و تعلیل کی۔

حوالہ: محدث العصر نمبر، ماہنامہ الحدیث حضرو، ص 334

شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ

لقد كان عالمًا جليلًا، محبًّا للحديث وأهله، شغوفًا بالمطالعة وتقييد الفوائد، حريصًا على وقته، لا يضيّعه في توافه الأمور، يردّ على المبتدعة ويكشف عن ضلالاتهم، لا يخاف في الحقّ لومة لائم. فرحمه الله رحمةً واسعةً، وأسكنه فسيحَ جنّاته. آمين
ترجمہیقیناً وہ ایک جلیل القدر عالم تھے؛ حدیث اور اہلِ حدیث سے محبت کرنے والے، مطالعے اور علمی فوائد قلم بند کرنے کے شیدائی، اور اپنے وقت کے بڑے قدردان کہ اسے فضول کاموں میں ضائع نہ کرتے۔ اہلِ بدعت کا رد کرتے اور ان کی گمراہیوں کو بے نقاب کرتے، اور حق کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرتے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی وسیع رحمت فرمائے اور انہیں اپنی کشادہ جنتوں میں جگہ دے۔ آمین

حوالہ: محدث العصر نمبر، ماہنامہ الحدیث حضرو، ص 178

مولانا رفیق اثری حفظہ اللہ

’’میں ان کی وفات کو جماعت کے لیے بہت بڑا نقصان اور سانحہ سمجھتا ہوں، رجال پر ان کی بہت گہری نظر تھی، اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے۔‘‘

حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114

شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

’’وہ بڑے عظیم عالمِ دین تھے، بالخصوص علم الرجال میں وہ خاص ملکہ رکھتے تھے کہ پورے پاکستان میں اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ نہایت سادہ طبیعت کے مالک تھے، زہد و تقویٰ اور قوی حافظہ ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔‘‘

حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114

شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ

’’آپ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے اور اپنے ہم عصر علماء میں سے پاکستان کے اندر اسماء الرجال کے زیادہ ماہر تھے، اور گمراہ کن افکار کے حامل افراد کے خلاف کتاب و سنت کی روشنی میں بہت جلد میدان میں اتر آتے تھے، ماہنامہ الحدیث اس بات کا بہت بڑا شاہد ہے۔ اسی طرح خدمتِ حدیث پر ان کی کتب اور مقالات ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔‘‘

حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114

شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ

’’…… اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑا حفظ و ضبط عطا فرمایا تھا۔‘‘

حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114

شیخ عبد الستار حماد حفظہ اللہ

’’اسماء الرجال کے فن میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ حنفیت کے حوالے سے بڑا جاندار تبصرہ ہوتا تھا۔ اختلاف کو برداشت کرنے والے تھے۔‘‘

حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 114

📖 شیخ رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر خصوصی شمارہ: محدث العصر نمبر — ماہنامہ الحدیث حضرو

📷تصاویر

حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

🔗مزید دیکھیں

📍آبائی علاقہ — حضرو، پنجاب

نوٹ: یہ ویب سائٹ شیخ رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ معاذ بن زبیر علی زئی کے زیرِ انتظام ہے۔