Jamia al-Tirmidhi Hadith 111 (سنن الترمذي)
[111]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،عَنْ الزُّہْرِيِّ بِہَذَا الإسْنَادِ مِثْلَہُ. قَالَ أَبُو عِيسَی: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَإِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ فِي أَوَّلِ الإسْلاَمِ،ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ. وَہَكَذَا رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْہُمْ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ،وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ. وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ: عَلَی أَنَّہُ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ فِي الْفَرْجِ وَجَبَ عَلَيْہِمَا الْغُسْلُ،وَإِنْ لَمْ يُنْزِلاَ
اس سند سے بھی زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے،یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا،بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا،۳-اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں،مروی ہے،۴-اوراسی پراکثر اہل علم کا عمل ہے،کہ جب آدمی اپنی بیوی کی (شرمگاہ) میں جماع کرے تو دونوں(میاں بیوی) پر غسل واجب ہوجائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہواہو۔