Jamia al-Tirmidhi Hadith 113 (سنن الترمذي)
[113] إسنادہ ضعیف
ابو داود (236) ابن ماجہ (612)
وقال الترمذي: ’’وعبد اللہ ضعفہ یحیی بن سعید من قبل حفظہ‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ہُوَ الْعُمَرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ يَرَی أَنَّہُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَمْ يَجِدْ بَلَلًا قَالَ لَا غُسْلَ عَلَيْہِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللہِ ہَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ تَرَی ذَلِكَ غُسْلٌ قَالَ نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَإِنَّمَا رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ حَدِيثَ عَائِشَةَ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ضَعَّفَہُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِہِ فِي الْحَدِيثِ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَرَأَی بِلَّةً أَنَّہُ يَغْتَسِلُ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ إِنَّمَا يَجِبُ عَلَيْہِ الْغُسْلُ إِذَا كَانَتْ الْبِلَّةُ بِلَّةَ نُطْفَةٍ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَقَ وَإِذَا رَأَی احْتِلَامًا وَلَمْ يَرَ بِلَّةً فَلَا غُسْلَ عَلَيْہِ عِنْدَ عَامَّةِ أَہْلِ الْعِلْمِ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یادنہ آئے،آپ نے فرمایا: وہ غسل کرے اور اس شخص کے بارے میں (پوچھاگیا) جسے یہ یاد ہوکہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے توآپ نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ام سلمہ نے عرض کیا:اللہ کے رسول! کیا عورت پر بھی جو ایسادیکھے غسل ہے؟ آپ نے فرمایا: عورتیں بھی (شرعی احکام میں) مردوں ہی کی طرح ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عائشہ کی حدیث کو جس میں ہے کہ آدمی تری دیکھے اوراسے احتلام یادنہ آئے صرف عبداللہ ابن عمرعمری ہی نے عبیداللہ سے روایت کیا ہے اورعبداللہ بن عمرعمری کی یحیی بن سعیدنے حدیث کے سلسلے میں ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۱؎،۲-صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جب آدمی جاگے اور تری دیکھے توغسل کرے،یہی سفیان ثوری اور احمد کابھی قول ہے۔تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس پر غسل اس وقت واجب ہوگا جب وہ تری نطفے کی تری ہو،یہ شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔اورجب وہ احتلام دیکھے اور تری نہ پائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر غسل نہیں۔