Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 117 (سنن الترمذي)

[117]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَنَّہَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللہِ ﷺ لَيْسَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْفَرْكِ لِأَنَّہُ وَإِنْ كَانَ الْفَرْكُ يُجْزِئُ فَقَدْ يُسْتَحَبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ لَا يُرَی عَلَی ثَوْبِہِ أَثَرُہُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمَنِيُّ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ فَأَمِطْہُ عَنْكَ وَلَوْ بِإِذْخِرَةٍ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے،۳-اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے کپڑے سے منی دھوئیان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ۱؎۔اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے،لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیاجاتاہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔(کیونکہ مردکوآدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھناہوتا ہے) ابن عباس کہتے ہیں: منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے،لہذا تم اسے اپنے سے صاف کرلو چاہے اذخر(گھاس) ہی سے ہو۔