Jamia al-Tirmidhi Hadith 169 (سنن الترمذي)
[169] إسنادہ ضعیف
الأعمش و إبراہیم النخعي مدلسان وعنعنا
وحدیث ’’لا سمر إلا لمصل أومسافر‘‘ أخرجہ أحمد (1/ 412،463) وسندہ ضعیف لإ نقطاعہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَہُمَا وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَہُ قَيْسٌ أَوْ ابْنُ قَيْسٍ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ ہَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَكَرِہَ قَوْمٌ مِنْہُمْ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَرَخَّصَ بَعْضُہُمْ إِذَا كَانَ فِي مَعْنَی الْعِلْمِ وَمَا لَا بُدَّ مِنْہُ مِنْ الْحَوَائِجِ وَأَكْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَی الرُّخْصَةِ قَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات میں گفتگوکرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں عبداللہ بن عمرو،اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-صحابہ کرام اورتابعین اوران کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیاہے۔کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اورکچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے،بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یاکوئی ایسی ضرورت ہوجس کے بغیرچارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں،نیزنبی اکرمﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: بات صرف وہ کرسکتا ہے جوصلاۃِعشاء کا منتظرہویا مسافر ہو۔