Jamia al-Tirmidhi Hadith 206 (سنن الترمذي)
[206] إسنادہ ضعیف جدًا
جابر الجعفي ضعیف مدلس وقال الحافظ ابن حجر: ضعفہ الجمھور (طبقات المدلسین 5/133) وقال العراقي: ضعفہ الجمھور (تخریج احیاء علوم الدین 285/4)
وللحدیث طریق آخر عند ابن ماجہ (727) وسندہ ضعیف جدًا
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَہُ بَرَاءَةٌ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَثَوْبَانَ وَمُعَاوِيَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُہُ يَحْيَی بْنُ وَاضِحٍ وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ اسْمُہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ ضَعَّفُوہُ تَرَكَہُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَوْلَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَہْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ وَلَوْلَا حَمَّادٌ لَكَانَ أَہْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْہٍ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث غریب ہے،۲-اس باب میں عبداللہ بن مسعود،ثوبان،معاویہ،انس،ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اورجابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے،یحیی بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قراردیا ہے،۴-اگر جابر جعفی نہ ہوتے ۱؎ تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے،اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔