Jamia al-Tirmidhi Hadith 2459 (سنن الترمذي)
[2459] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (4260)
أبو بکر بن أبي مریم: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا وَتَمَنَّی عَلَی اللہِ قَالَ ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَالَ وَمَعْنَی قَوْلِہِ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ يَقُولُ حَاسَبَ نَفْسَہُ فِي الدُّنْيَا قَبْلَ أَنْ يُحَاسَبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُرْوَی عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا وَتَزَيَّنُوا لِلْعَرْضِ الْأَكْبَرِ وَإِنَّمَا يَخِفُّ الْحِسَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی مَنْ حَاسَبَ نَفْسَہُ فِي الدُّنْيَا وَيُرْوَی عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ قَالَ لَا يَكُونُ الْعَبْدُ تَقِيًّا حَتَّی يُحَاسِبَ نَفْسَہُ كَمَا يُحَاسِبُ شَرِيكَہُ مِنْ أَيْنَ مَطْعَمُہُ وَمَلْبَسُہُ
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کرلے اورموت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز وبے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگادے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-اور من دان نفسہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرلے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیاجائے،۳-عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیاجائے،اور عرض اکبر(آخرت کی پیشی) کے لیے تدبیر کرو،اور جوشخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب وکتاب آسان ہوگا،۴-میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیز گارنہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتاہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔