Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2476 (سنن الترمذي)

[2476] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث السابق(2473)

انوار الصحیفہ ص 258

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْہِ إِلَّا بُرْدَةٌ لَہُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بَكَی لِلَّذِي كَانَ فِيہِ مِنْ النِّعْمَةِ وَالَّذِي ہُوَ الْيَوْمَ فِيہِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْہِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَی وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَی الْمُؤْنَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَأَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ ہُوَ ابْنُ مَيْسَرَةَ وَہُوَ مَدَنِيٌّ وَقَدْ رَوَی عَنْہُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ الَّذِي رَوَی عَنْ الزُّہْرِيِّ رَوَی عَنْہُ وَكِيعٌ وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ كُوفِيٌّ رَوَی عَنْہُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْأَئِمَّةِ

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر ۱؎ آئے ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی،جب رسول اللہ ﷺنے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز ونعمت کو دیکھ کر رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں ان دنوں تھے،پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیاحال ہوگا تمہارا اس وقت جب کہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تودوسرے جوڑے میں شام کرے گا اور اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھاجائے گا تو دوسرا اٹھایاجائے گا،اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردہ ڈالو گے جیساکہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتاہے؟۲ ؎ ،صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیاہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت ومشقت سے بچ جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں،بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-یزید بن زیادسے مراد یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں،ان سے مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے روایت کی ہے اور (دوسرے) یزید بن زیاد دمشقی وہ ہیں جنہوں نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان سے (یعنی دمشقی سے) وکیع اور مروان بن معاویہ نے روایت کیا ہے،اور(تیسرے) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں ۳؎۔