Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2548 (سنن الترمذي)

[2548] إسنادہ ضعیف

خالد بن أبي بکر: فیہ لین (تقریب: 1618)

وعدّ الذھبي ھذا الحدیث من مناکیرہ (میزان الإعتدال 628/1)

قال معاذ علي زئي:

وقال الترمذي: سألت محمدًا،عن ہذا الحديث فلم يعرفہ،وقال: ‌’’لخالد ‌بن ‌أبي ‌بكر مناكير عن سالم بن عبد اللہ‘‘ (سنن الترمذي: 2548)

انوار الصحیفہ ص 261، 262

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی الْقَزَّازُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِيہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بَابُ أُمَّتِي الَّذِي يَدْخُلُونَ مِنْہُ الْجَنَّةَ عَرْضُہُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ الْمُجَوِّدِ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّہُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْہِ حَتَّی تَكَادُ مَنَاكِبُہُمْ تَزُولُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْہُ و قَالَ لِخَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مَنَاكِيرُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ دروازہ جس سے میری امت جنت میں داخل ہوگی اس کی چوڑائی تیزرفتار گھوڑسوار کے تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی،پھربھی دروازے پرایسی بھیڑبھاڑ ہوگی کہ ان کے کندھے اترنے کے قریب ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تووہ اسے نہیں جان سکے اور کہا: سالم بن عبداللہ کے واسطہ سے خالدبن ابی بکر کی کئی منکر احادیث آئی ہیں۔