Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 44 (سنن الترمذي)

[44]صحیح

وانظر سنن النسائی (136)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ وَالرُّبَيِّعِ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي رَافِعٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْروٍ وَمُعَاوِيَةَ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ زَيْدٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ہَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ لِأَنَّہُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللہِ عَلَيْہِ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ وَأَفْضَلُہُ ثَلَاثٌ وَلَيْسَ بَعْدَہُ شَيْءٌ و قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لَا آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوءِ عَلَی الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَا يَزِيدُ عَلَی الثَّلَاثِ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًی

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضوتین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس باب میں عثمان،عائشہ،ربیع،ابن عمر،ابوامامہ،ابو رافع،عبداللہ بن عمرو،معاویہ،ابوہریرہ،جابر،عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۲-علی رضی اللہ عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اورصحیح ہے کیوں کہ یہ علی رضی اللہ عنہ سے اوربھی سندوں سے مروی ہے،۳-اہل علم کا اس پرعمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے،دودو بارافضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھوناہے،اس سے آگے کی گنجائش نہیں،ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کوتین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے،امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کووہی دھوئے گا جو(دیوانگی اوروسوسہ)میں مبتلاہوگا ۱؎۔