Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 457 (سنن الترمذي)

[457]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،عَنْ الأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُوتِرُ بِثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً،فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَی: حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ الْوَتْرُ بِثَلاَثَ عَشْرَةَ،وَإِحْدَی عَشْرَةَ،وَتِسْعٍ،وَسَبْعٍ،وَخَمْسٍ،وَثَلاَثٍ،وَوَاحِدَةٍ. قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ: مَعْنَی مَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُوتِرُ بِثَلاَثَ عَشْرَةَ. قَالَ: إِنَّمَا مَعْنَاہُ أَنَّہُ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ،فَنُسِبَتْ صَلاَةُ اللَّيْلِ إِلَی الْوِتْرِ،وَرَوَی فِي ذَلِكَ حَدِيثًا عَنْ عَائِشَةَ. وَاحْتَجَّ بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ: أَوْتِرُوا يَا أَہْلَ الْقُرْآنِ. قَالَ: إِنَّمَا عَنَی بِہِ قِيَامَ اللَّيْلِ يَقُولُ: إِنَّمَا قِيَامُ اللَّيْلِ عَلَی أَصْحَابِ الْقُرْآنِ

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرمﷺ وتر تیرہ رکعت پڑھتے تھے لیکن جب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعت پڑھنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے۔۳-نبی اکرمﷺ سے وتر تیرہ،گیارہ،نو،سات،پانچ،تین اور ایک سب مروی ہیں،۴-اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) کہتے ہیں: یہ جو روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ وترتیرہ رکعت پڑھتے تھے،اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تہجد(قیام اللیل) وتر کے ساتھ تیرہ رکعت پڑھتے تھے،تو اس میں قیام اللیل (تہجد)کو بھی وتر کانام دے دیاگیا ہے،انہوں نے اس سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث بھی روایت کی ہے اور نبی اکرمﷺ کے قول اے اہل قرآن!وتر پڑھا کرو سے بھی دلیل لی ہے۔ابن راہویہ کہتے ہیں کہ آپﷺنے اس سے قیام اللیل مرادلی ہے،اور قیام اللیل صرف قرآن کے ماننے والوں پر ہے (نہ کہ دوسرے مذاہب والوں پر)۔