Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 54 (سنن الترمذي)

[54] إسنادہ ضعیف

رشدین بن سعدضعیف (تقریب: 1942) وقال العراقي: ضعفہ الجمہور لسوء حفظہ (تخریج الإحیاء 84/4 قلت: فی المطبوع: راشد بن سعد،والصواب رشدین بن سعد کما في اتحاف السادۃ المتقین 9/ 53 وقال: ضعفہ الجمہور لسوء حفظہ) وقال الھیثمي: ضعفہ الجمھور (المجمع 5/ 66،وانظر 1/ 58) و قال: والأکثر علی تضعیفہ ( مجمع الزوائد 1/ 201)

والإفریقي ضعیف

انوار الصحیفہ ص 190

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْہَہُ بِطَرَفِ ثَوْبِہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُہُ ضَعِيفٌ وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ فِي التَّمَنْدُلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَمَنْ كَرِہَہُ إِنَّمَا كَرِہَہُ مِنْ قِبَلِ أَنَّہُ قِيلَ إِنَّ الْوُضُوءَ يُوزَنُ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالزُّہْرِيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ حَدَّثَنِيہِ عَلِيُّ بْنُ مُجَاہِدٍ عَنِّي وَہُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ عَنْ ثَعْلَبَة عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ إِنَّمَا كُرِہَ الْمِنْدِيلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ لِأَنَّ الْوُضُوءَ يُوزَنُ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے،رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قراردیئے جاتے ہیں،۲-صحابہ کرام اوران کے بعدکے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضوکے بعدرومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے،اورجن لوگوں نے اسے مکروہ کہاہے تومحض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہاجاتاہے: وضوکو(قیامت کے دن)تولاجائے گا،یہ بات سعیدبن مسیب اورزہری سے روایت کی گئی ہے،۳-زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لئے مکروہ ہے کہ وضوکاپانی (قیامت کے روز) تولا جائے گا ۱؎۔