Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 548 (سنن الترمذي)

[548]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَی مَكَّةَ فَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ أَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِمَكَّةَ قَالَ عَشْرًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ أَقَامَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِہِ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ وَإِنْ زِدْنَا عَلَی ذَلِكَ أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ أَنَّہُ قَالَ مَنْ أَقَامَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ مَنْ أَقَامَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَتَمَّ الصَّلَاةَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْہُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّہُ قَالَ إِذَا أَقَامَ أَرْبَعًا صَلَّی أَرْبَعًا وَرَوَی عَنْہُ ذَلِكَ قَتَادَةُ وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ وَرَوَی عَنْہُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي ہِنْدٍ خِلَافَ ہَذَا وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ بَعْدُ فِي ذَلِكَ فَأَمَّا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَہْلُ الْكُوفَةِ فَذَہَبُوا إِلَی تَوْقِيتِ خَمْسَ عَشْرَةَ وَقَالُوا إِذَا أَجْمَعَ عَلَی إِقَامَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ و قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ إِذَا أَجْمَعَ عَلَی إِقَامَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ و قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ إِذَا أَجْمَعَ عَلَی إِقَامَةِ أَرْبَعَةٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ وَأَمَّا إِسْحَقُ فَرَأَی أَقْوَی الْمَذَاہِبِ فِيہِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِأَنَّہُ رَوَی عَنْ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ تَأَوَّلَہُ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذَا أَجْمَعَ عَلَی إِقَامَةِ تِسْعَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلَی أَنَّ الْمُسَافِرَ يَقْصُرُ مَا لَمْ يُجْمِعْ إِقَامَةً وَإِنْ أَتَی عَلَيْہِ سِنُونَ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے۔آپ نے دورکعتیں پڑھیں،یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا:رسول اللہﷺ مکہ میں کتنے دن رہے،انہوں نے کہادس دن ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اورابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے سفر میں انیس دن ٹھہرے اور دورکعتیں اداکرتے رہے۔ابن عباس کہتے ہیں؛ چنانچہ جب ہم انیس دن یا اس سے کم ٹھہرتے تو دورکعتیں پڑھتے۔اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرتے توپوری پڑھتے،۴-علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو دس دن ٹھہرے وہ پوری صلاۃ پڑھے،۵-ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو پندرہ دن قیام کرے وہ پوری صلاۃ پڑھے۔اوران سے بارہ دن کا قول بھی مروی ہے،۶-سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب چاردن قیام کرے تو چار رکعت پڑھے۔ان سے اسے قتادہ اور عطا خراسانی نے روایت کیاہے،اور داود بن ابی ہند نے ان سے اس کے خلاف روایت کیاہے،۷-اس کے بعد اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہوگیا۔سفیان ثوری اور اہل کوفہ پندرہ دن کی تحدید کی طرف گئے اوران لوگوں نے کہاکہ جب وہ پندرہ دن ٹھہر نے کی نیت کرلے تو پوری صلاۃ پڑھے،۸-اوزاعی کہتے ہیں: جب وہ بارہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو صلاۃپوری پڑھے،۹-مالک بن انس،شافعی،اور احمد کہتے ہیں: جب چار دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو صلاۃپوری پڑھے،۱۰-اوراسحاق بن راہویہ کی رائے ہے کہ سب سے قوی مذہب ابن عباس کی حدیث ہے،اس لیے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے،پھریہ کہ نبی اکرمﷺ کے بعدوہ اس پر عمل پیرارہے جب وہ انیس دن ٹھہرتے توصلاۃپوری پڑھتے۔پھر اہل علم کا اجماع اس بات پر ہوگیاکہ مسافر جب تک قیام کی نیت نہ کرے وہ قصر کرتا رہے،اگرچہ اس پر کئی سال گزرجائیں ۲؎۔