Jamia al-Tirmidhi Hadith 55 (سنن الترمذي)
[55] ضعیف بھذا اللفظ
أبو إدریس لم یسمع من عمر،وأبو عثمان ھو سعید بن ھانئ (مسند الفاروق لإبن کثیر 111/1) وھما یرویان عن جبیر بن نفیر عن عقبۃ بن عامر ( مسلم 234 ب) فالسند معلل۔
والحدیث صحیح بدون الزیادۃ: ’’اللہم اجعلني من التوابین واجعلني من المتطھرین‘‘ انظر صحیح مسلم (234)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ وَأَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِيكَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ اللہُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنْ الْمُتَطَہِّرِينَ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّہَا شَاءَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَرَوَی عَبْدُ اللہِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُہُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ وَعَنْ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُمَرَ وَہَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِہِ اضْطِرَابٌ وَلَا يَصِحُّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ہَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ،اللہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنْ الْمُتَطَہِّرِینَ (میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اور میں گواہی دیتاہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں،اے اللہ!مجھے توبہ کرنے والوں اورپاک رہنے والوں میں سے بنادے) تواس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں انس اورعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۲-امام ترمذی نے عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکرکرنے کے بعد فرما یا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے،۳-اس باب میںزیادہ تر چیزیں نبی اکرم ﷺسے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔