Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 63 (سنن الترمذي)

[63]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ فَضْلِ طَہُورِ الْمَرْأَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَكَرِہَ بَعْضُ الْفُقَہَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَہُورِ الْمَرْأَةِ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ كَرِہَا فَضْلَ طَہُورِہَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِہَا بَأْسًا

قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے(وضو کرنے سے) منع فرمایا ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے،۲-بعض فقہا ء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قراردیاہے،یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے،ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوے پانی کومکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھو ٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔