Jamia al-Tirmidhi Hadith 80 (سنن الترمذي)
[80]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ سَمِعَ جَابِرًا قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا مَعَہُ فَدَخَلَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَہُ شَاةً فَأَكَلَ وَأَتَتْہُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ فَأَكَلَ مِنْہُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّہْرِ وَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَتْہُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي ہُرَيرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي رَافِعٍ وَأُمِّ الْحَكَمِ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأُمِّ عَامِرٍ وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي ہَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِہِ إِنَّمَا رَوَاہُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا ہُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ ہَكَذَا رَوَاہُ الْحُفَّاظُ وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَرَوَاہُ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَعِكْرِمَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيہِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَہَذَا أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ وَہَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَكَأَنَّ ہَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ (مدینہ میں) نکلے،میں آپ کے ساتھ تھا،آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے،اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے (اسے) تناول فرمایا،وہ ترکھجور وں کا ایک طبق بھی لے کر آئی توآپ نے اس میں سے بھی کھایا،پھر ظہرکے لیے وضو کیا اور ظہر کی صلاۃ پڑھی،آپ نے واپس پلٹنے کاارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کرآئی توآپ نے (اسے بھی) کھایا،پھرآپ نے عصرکی صلاۃپڑھی اور(دوبارہ) وضونہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس باب میں ابو بکرصدیق،ابن عباس،ابوہریرہ،ابن مسعود،ابورافع،ام حکم،عمروبن امیہ،ام عامر،سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ابوبکرکی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔۲-صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعدکے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اوراسحاق بن راہویہ کااسی پر عمل ہے کہ آگ پرپکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں،اوریہی رسول اللہﷺ کاآخری فعل ہے،گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔