Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 86 (سنن الترمذي)

[86] إسنادہ ضعیف

ابو داود (179) ابن ماجہ (502)

الأعمش مدلس و عنعن و حبیب لم یسمع من عروۃ

انوار الصحیفہ ص 191

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَہَنَّادٌ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِہِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ قُلْتُ مَنْ ہِيَ إِلَّا أَنْتِ قَالَ فَضَحِكَتْ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ ہَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ قَالُوا لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ و قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَإِنَّمَا تَرَكَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ہَذَا لِأَنَّہُ لَا يَصِحُّ عِنْدَہُمْ لِحَالِ الْإِسْنَادِ قَالَ و سَمِعْت أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ ضَعَّفَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ہَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا وَقَالَ ہُوَ شِبْہُ لَا شَيْءَ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يُضَعِّفُ ہَذَا الْحَدِيثَ و قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَبَّلَہَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَہَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاہِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ہَذَا الْبَابِ شَيْءٌ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا،پھرآپ صلاۃ کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا،عروہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنی خالہ ام المومنین عائشہ سے) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی؟ تووہ ہنس پڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-صحابہ کرام اورتابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اوریہی قول سفیان ثوری،اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو(واجب) نہیں ہے،مالک بن انس،اوزاعی،شافعی،احمد اوراسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو(واجب) ہے،یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے۔۲-ہمارے اصحاب نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر جو نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ۲؎،۳-یحیی بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اورکہاہے کہ یہ لاشیٔ کے مشابہ ہے ۳؎،۴-نیز میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) کوبھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا،انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے،۵-نیزابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔اس باب میں نبی اکرم ﷺسے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔