Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 89 (سنن الترمذي)

[89]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَہُ دَسَمًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَأَی بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنْ اللَّبَنِ وَہَذَا عِنْدَنَا عَلَی الِاسْتِحْبَابِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُہُمْ الْمَضْمَضَةَ مِنْ اللَّبَنِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیاتوپانی منگواکر کلی کی اورفرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں سہل بن سعد ساعدی،اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے،اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ۱؎ ہے۔