Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 90 (سنن الترمذي)

[90]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَہُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا يُكْرَہُ ہَذَا عِنْدَنَا إِذَا كَانَ عَلَی الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ ذَلِكَ وَہَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي ہَذَا الْبَابِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ وَجَابِرٍ وَالْبَرَاءِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا،آپ پیشاب کررہے تھے،توآپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یاپیشاب کررہاہو،بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیرکی ہے ۱؎،۲-یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جواس باب میں روایت کی گئی ہے،۳-اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ،عبداللہ بن حنظلہ،علقمہ بن شفواء،جابر اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔