Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 92 (سنن الترمذي)

[92]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (482)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْہَا قَالَتْ فَسَكَبْتُ لَہُ وَضُوءًا قَالَتْ فَجَاءَتْ ہِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَی لَہَا الْإِنَاءَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْہِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِنَّہَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا ہِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوْ الطَّوَّافَاتِ وَقَدْ رَوَی بَعْضُہُمْ عَنْ مَالِكٍ وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي قَتَادَةَ وَالصَّحِيحُ ابْنُ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَہُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِثْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْہِرَّةِ بَأْسًا وَہَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي ہَذَا الْبَابِ وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَلَمْ يَأْتِ بِہِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ

کبشہ بنت کعب (جو ابن ابو قتادہ کے نکاح میں تھیں)کہتی ہیں: ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے (ایک برتن) وضو کا پانی میں ڈالا،اتنے میں ایک بلی آکرپینے لگی توانہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ (آسانی سے) پی لے،کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں توانہوں نے کہا: بھتیجی!کیا تم کوتعجب ہورہا ہے؟ میں نے کہا:ہاں،توانہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:یہ (بلی) نجس نہیں،یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں عائشہ اورابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں،۲-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۳-صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثراہل علم مثلاً شافعی،احمداوراسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں،اوریہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔