Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 112 (سنن أبي داود)

[112]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْہَمْدَانِيُّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ صَلَّی عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ الْغَدَاةَ ثُمَّ دَخَلَ الرَّحْبَةَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتَاہُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيہِ مَاءٌ وَطَسْتٍ قَالَ فَأَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَدِہِ الْيُمْنَی فَأَفْرَغَ عَلَی يَدِہِ الْيُسْرَی وَغَسَلَ كَفَّيْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَہُ الْيُمْنَی فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ سَاقَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ مُقَدَّمَہُ وَمُؤَخِّرَہُ مَرَّةً ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَہُ

عبد خیر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز پڑھائی اور پھر رحبہ میں آ گئے (کوفہ کے مرکزی محلے کا نام تھا) اور پانی منگوایا۔ایک غلام برتن لایا اس میں پانی تھا اور اس کے ساتھ تسلا بھی تھا،چنانچہ آپ نے برتن کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا،پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا (پانی لیا) اور تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا،اور پھر (زائدہ بن قدامہ نے سابقہ) حدیث ابوعوانہ کے قریب قریب بیان کی،پھر اپنے سر کا مسح کیا،اس کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور مثل سابق حدیث بیان کی۔