Sunan Abi Dawood Hadith 113 (سنن أبي داود)
[113]صحیح
سنن النسائی: 93، 94 من حدیث شعبہ وقال: ’’ھذا خطأ والصواب: خالد بن علقمہ، لیس مالک بن عرفطہ‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْہِ ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک کرسی لائی گئی آپ اس پر بیٹھے پھر پانی کا ایک کوزہ (برتن) لایا گیا۔آپ نے اپنا ہاتھ تین بار دھویا،پھر کلی کی ساتھ ہی ناک میں پانی بھی چڑھایا۔دونوں ایک چلو کے ساتھ۔اور حدیث بیان کی۔