Sunan Abi Dawood Hadith 1303 (سنن أبي داود)
[1303] إسنادہ ضعیف
مقاتل بن بشیر مستور،وثقہ ابن حبان وحدہ،وقال الذھبي: لا یعرف(میزان الإعتدال 4/ 171)
قال معاذ علي زئي:
ذکرہ ابن حبان فی الثقات (7/ 509)
وقال الذھبي في حدیثہ: ’’إِسنادہ صالح‘‘ (المھذب: 3796)
وقال مالک بن مغول: ’’کانت بنو عجل تفخر بمقاتل بن بشیر العجلي وکنت أغدو إلیہ فأجد مشیخۃ بني عجل الأکابر،قد بکر وا إلیہ وکان إذا تکلم أنصتوا لکلامہ وحفظوا عنہ ما یقول ویدرسہ بعضھم،وکنت الیوم الذي آتیہ فیہ وأجالسہ،تغیر الدنیا في عیني وقلبي‘‘ (مسائل ابن أبي شیبۃ: 17 وسندہ صحیح إلی مالک بن مغول)
وقال محمد مرتضی الحسیني الزبیدي (المتوفی 1205 ھ): ’’مقاتل بن بشير العجلي،عن شريح بن ہانئ،وعنہ مالك بن مغول،ثقة‘‘ (تاج العروس: 30/ 235)
قال الذھبي: ’’مقاتل ما أحسبہ روی غير ھذا‘‘ (المھذب في اختصار السنن الکبیر: 2/ 909 ح 3992)
قلتُ: ھو صالح الحدیث کما قال الذھبي في حدیثہ: ’’إسنادہ صالح‘‘.
تنبیہ: وقع في ھامش مسائل ابن أبي شیبۃ (الرقم: 17 ص 35): ’’إسنادہ ضعیف‘‘. والصواب أن ’’إسنادہ صحیح إلی مالک بن مغول‘‘. صحح نسخکم رحمکم اللہ.
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
-حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ،حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ،حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ،عَنْ شُرَيْحِ بْنِ ہَانِئٍ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا،قَالَ: سَأَلْتُہَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ؟ فَقَالَتْ: مَا صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ,إِلَّا صَلَّی أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ،وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ،فَطَرَحْنَا لَہُ نِطَعًا،فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی ثُقْبٍ فِيہِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْہُ،وَمَا رَأَيْتُہُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِہِ قَطُّ.
شریح بن ہانی،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب بھی عشاء کی نماز پڑھ کر میرے ہاں تشریف لاتے تو چار یا چھ رکعت پڑھتے۔ایک رات بارش ہو گئی ہم نے آپ ﷺ کے لیے چمڑا بچھا دیا،پس گویا میں دیکھ رہی ہوں کہ اس کے ایک سوراخ سے پانی نکل رہا تھا۔اور میں نے آپ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ (اثنائے نماز میں) اپنے کپڑوں کو مٹی سے بچاتے ہوں۔