Sunan Abi Dawood Hadith 132 (سنن أبي داود)
[132] إسنادہ ضعیف
لیث بن أبي سلیم ضعیف مدلس،انظر لضعفہ: کتاب الضعفاء للنسائي (511) والتلخیص الحبیر (1/ 78 ح79) وغیرھما ولتدلیسہ: مشاہیر علماء الأمصار لابن حبان (ص 146 ت 1153) وقال البوصیري: ضعفہ الجمھور (زوائد ابن ماجہ: 208) وقال ابن الملقن: وقد ضعفہ الجمھور (البدرالمنیر: 227/7)
وقال النووي: ’’فھو حدیث ضعیف بالإتفاق‘‘ (المجموع شرح المھذب: 1/ 464)!
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَمْسَحُ رَأْسَہُ مَرَّةً وَاحِدَةً حَتَّی بَلَغَ الْقَذَالَ وَہُوَ أَوَّلُ الْقَفَا وَقَالَ مُسَدَّدٌ مَسَحَ رَأْسَہُ مِنْ مُقَدَّمِہِ إِلَی مُؤَخَّرِہِ حَتَّی أَخْرَجَ يَدَيْہِ مِنْ تَحْتِ أُذُنَيْہِ قَالَ مُسَدَّدٌ فَحَدَّثْتُ بِہِ يَحْيَی فَأَنْكَرَہُ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ زَعَمُوا أَنَّہُ كَانَ يُنْكِرُہُ وَيَقُولُ إِيشْ ہَذَا طَلْحَةُ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ
جناب طلحہ بن مصرف اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں،کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سر کا مسح ایک بار کرتے تھے حتیٰ کہ (ہاتھ) عربی ((قذال)) /عربی تک لے جاتے تھے۔عربی ((قذال)) /عربی گدی کے شروع کو کہتے ہیں۔جناب مسدد (اپنی روایت میں) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سر کا مسح کیا (سر کے) شروع سے لے کر آخر تک حتیٰ کہ اپنے ہاتھ کانوں کے نیچے سے نکالے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو سنا وہ کہتے تھے کہ ابن عیینہ اس حدیث کا انکار کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ عربی ((طلحۃ عن أبیہ عن جدہ)) /عربی یہ کیا اور کیسی سند ہے؟ (یعنی ضعیف ہے)۔