Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 142 (سنن أبي داود)

[142]إسنادہ حسن

اخرجہ الترمذی (788 وسندہ حسن) والنسائی (114 وسندہ حسن) وابن ماجہ (448 وسندہ حسن) وصححہ ابن خزیمہ (150، 168 وسندھما حسن) وانظر مقالات (2/ 202) والحدیث الآتی (3973) مشکوۃ المصابیح (405، 3260)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ فِي آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ عَنْ أَبِيہِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ قَالَ كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَلَمْ نُصَادِفْہُ فِي مَنْزِلِہِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا قَالَ وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيہِ تَمْرٌ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ ہَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ جُلُوسٌ إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَہُ إِلَی الْمُرَاحِ وَمَعَہُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ فَقَالَ مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ قَالَ بَہْمَةً قَالَ فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَہَا شَاةً ثُمَّ قَالَ لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاہَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَہْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَہَا شَاةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِہَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ قَالَ فَطَلِّقْہَا إِذًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لَہَا صُحْبَةً وَلِي مِنْہَا وَلَدٌ قَالَ فَمُرْہَا يَقُولُ عِظْہَا فَإِنْ يَكُ فِيہَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْوُضُوءِ قَالَ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا

سیدنا لقیط بن صبرہ کہتے ہیں ک قبیلہ بنی منتفق کا جو وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تھا،میں اس کا سردار تھا یا ایک فرد۔جب ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو ہم نے آپ ﷺ کو گھر میں نہ پایا۔ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا۔انہوں نے ہمارے لیے ((خزیرۃ)) بنانے کا حکم دیا اور وہ ہمارے لیے بنا دیا گیا۔پھر ہمارے سامنے ایک کھجوریں بھرا طبق لایا گیا،قتیبہ نے لفظ ((قناع)) نہیں بولا۔اور ((قناع)) ایسے طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجوریں ہوں۔پھر رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا ’’کیا تمہیں کچھ ملا ہے یا تمہارے لیے کچھ کہا گیا ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ہاں اے اللہ کے رسول! (ہم نے خزیرہ کھا لیا ہے) اس اثنا میں جبکہ ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے،چرواہے نے رسول اللہ ﷺ کی بکریاں باڑے کی طرف چلائیں اور اس کے پاس بکری کا ایک بچہ بھی تھا جو ممیا رہا تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا: ’’ارے کیا جنوایا ہے؟‘‘ اس نے کہا ایک بچہ ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اب ہمارے لیے اس کے بدلے ایک بکری ذبح کر دو۔‘‘ پھر (ہم سے) فرمایا ’’یہ نہ سمجھنا کہ ہم تمہاری خاطر اسے ذبح کر رہے ہیں۔(جناب لقیط کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ((تحسبن)) سین کے کسرہ (زیر) سے ساتھ ادا فرمایا،فتحہ (زبر) کے ساتھ نہیں)۔(دراصل) ہماری سو بکریاں ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ اس سے بڑھ جائیں۔تو یہ چرواہا جب بھی کسی بکری کے بچہ جننے کی خبر لاتا ہے تو ہم اس کے بدلے ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔‘‘ لقیط کہتے ہیں کہ (اس موقع پر) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی ہے اور اس کی زبان میں کچھ ہے،یعنی زبان دراز اور بدگو ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے طلاق دے دو۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا میرے ساتھ ایک وقت گزرا ہے اور میری اس سے اولاد بھی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو پھر اسے نصیحت کرو۔اگر اس میں خیر ہوئی تو سمجھ جائے گی۔اور ایسے مت مارنا جیسے اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔‘‘ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’وضو خوب کامل کیا کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو اور ناک میں خوب پانی چڑھایا کرو الا یہ کہ روزے سے ہو۔‘‘