Sunan Abi Dawood Hadith 163 (سنن أبي داود)
[162] إسنادہ ضعیف
أبو إسحاق السبیعي مدلس (طبقات المدلسین: 91/ 3) وعنعن
وحدیث الحمیدی (47،بتحقیقي) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِہِ بِہَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَی بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ إِلَّا أَحَقَّ بِالْغَسْلِ حَتَّی رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَمْسَحُ عَلَی ظَہْرِ خُفَّيْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِہَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاہِرِہِمَا وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی ظَہْرِ خُفَّيْہِ وَرَوَاہُ وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِہِ قَالَ كُنْتُ أَرَی أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاہِرِہِمَا حَتَّی رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَمْسَحُ عَلَی ظَاہِرِہِمَا قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي الْخُفَّيْنِ وَرَوَاہُ عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ كَمَا رَوَاہُ وَكِيعٌ وَرَوَاہُ أَبُو السَّوْدَاءِ عَنْ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاہِرَ قَدَمَيْہِ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَفْعَلُہُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
جناب اعمش اپنی سند سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ میں پاؤں کے نیچے والے حصے ہی کو زیادہ لائق سمجھتا تھا کہ اسے دھویا جائے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے موزوں کے اوپر کے حصے ہی کا مسح کرتے تھے۔اس حدیث کو وکیع نے اعمش سے اپنی سند سے روایت کیا تو کہا: میں سمجھتا تھا کہ پاؤں کا نیچے والا حصہ ہی اس بات کے زیادہ لائق ہوتا ہے کہ ان کا مسح کیا جائے حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے اوپر کی جانب مسح کرتے تھے۔وکیع نے کہا کہ ((قدمین)) سے مراد ’’موزے‘‘ ہیں۔اس حدیث کو عیسی بن یونس نے اعمش نے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے وکیع نے روایت کیا ہے اور اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے ‘ انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا تو کہا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کیا تو اپنے قدموں کے اوپر کے حصے کو دھویا اور کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کرتے نہ دیکھا ہوتا (تو میں یہی سمجھے رہتا کہ ان کا نیچے والا حصہ ہی دھونے کے لائق ہوتا ہے) اور آخر تک حدیث اسی طرح بیان کی۔