Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1872 (سنن أبي داود)

[1872]إسنادہ صحیح

صحیح مسلم (1780)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا بَہْزُ بْنُ أَسَدٍ وَہَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ أَتَی الصَّفَا فَعَلَاہُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَی الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْہِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللہَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَہُ وَيَدْعُوہُ قَالَ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَہُ قَالَ ہَاشِمٌ فَدَعَا وَحَمِدَ اللہَ وَدَعَا بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے،پس مکہ میں داخل ہوئے،پھر حجر اسود کی طرف تشریف لائے،اسے بوسہ دیا۔پھر بیت اللہ کا طواف کیا،پھر صفا کی جانب آئے اور اس کے اوپر چڑھ گئے جہاں سے بیت اللہ آپ کو نظر آ رہا تھا،پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور اللہ کا ذکر کرتے رہے جس قدر کہ اللہ نے چاہا اور دعا کرتے رہے۔اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔راوی حدیث ہاشم نے کہا: دعا فرمائی،اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔