Sunan Abi Dawood Hadith 1875 (سنن أبي داود)
[1875]صحیح
أصلہ متفق علیہ انظر صحیح البخاري (4484) وصحیح مسلم (1333)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا إِنَّ الْحِجْرَ بَعْضُہُ مِنْ الْبَيْتِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاللہِ إِنِّي لَأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِنِّي لَأَظُنُّ رَسُولَ اللہِ ﷺ لَمْ يَتْرُكْ اسْتِلَامَہُمَا إِلَّا أَنَّہُمَا لَيْسَا عَلَی قَوَاعِدِ الْبَيْتِ وَلَا طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلَّا لِذَلِكَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان بتایا گیا کہ حجر (حاء کے کسرہ کے ساتھ،یعنی حطیم) کا کچھ حصہ بیت اللہ میں سے ہے،تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اگر یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی ان (شامی) ارکان کا استلام (مس کرنا) صرف اسی لیے ترک فرمایا تھا کہ یہ بیت اللہ کی اصل بنیادوں پر نہیں ہیں۔اور لوگ بھی حجر (حطیم) کے باہر سے اسی بنا پر طواف کرتے ہیں۔