Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1906 (سنن أبي داود)

[1906]صحیح

انظر الحدیث السابق (1905)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِيُّ الْمَعْنَی وَاحِدٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَةَ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَہُمَا وَإِقَامَتَيْنِ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَہُمَا قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا الْحَدِيثُ أَسْنَدَہُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ وَوَافَقَ حَاتِمَ بْنَ إِسْمَعِيلَ عَلَی إِسْنَادِہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَابِرٍ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ

جناب جعفر (جعفر الصادق) رحمہ اللہ اپنے والد (محمد بن علی رحمہ اللہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی تھیں،اور ان کے مابین کوئی سنتیں (نفل) نہیں پڑھے تھے۔اور مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی تھیں،اور ان کے مابین کوئی سنتیں (نفل) نہیں پڑھے تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو حاتم بن اسمٰعیل نے اپنی طویل حدیث میں مسند بیان کیا ہے (جبکہ یہ سند مرسل ہے۔حاتم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مسند بیان کی ہے) اور حاتم کی روایت کے مسند ہونے کی موافقت محمد بن علی الجعفی نے بھی کی ہے اور عربی ((جعفر ،عن أبیہ ،عن جابر /عربی )) کی سند سے روایت کی ہے۔فرق اتنا ہے کہ جعفی نے کہا: عربی ((فصلی المغرب والعتمۃ بأذان وإقامۃ)) /عربی آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے امام احمد رحمہ اللہ نے کہا کہ حاتم نے اس طویل حدیث میں خطا کی ہے۔