Sunan Abi Dawood Hadith 1910 (سنن أبي داود)
[1910]صحیح
صحیح بخاری (4520) صحیح مسلم (1219)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَہَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمُسَ وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ قَالَتْ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللہُ تَعَالَی نَبِيَّہُ ﷺ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِہَا ثُمَّ يُفِيضُ مِنْہَا فَذَلِكَ قَوْلُہُ تَعَالَی قرآن ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاس /قرآن ُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش اور ان کے اہل دین مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو ’’حمس‘‘ کہلاتے تھے۔جبکہ دیگر سب عرب عرفات میں وقوف کرتے تھے۔بیان کرتی ہیں کہ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ عرفات میں آ کر وقوف کریں،پھر وہاں سے لوٹیں،چنانچہ یہی تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی قرآن ((ثم أفیضوا من حیث أفاض الناس)) /قرآن ’’پھر لوٹو وہیں سے جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔‘‘