Sunan Abi Dawood Hadith 1909 (سنن أبي داود)
[1909]صحیح
انظر الحدیث السابق (1905) وھذا طرف منہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَ ہَذَا الْحَدِيثَ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ عِنْدَ قَوْلِہِ قرآن وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِيمَ مُصَل /قرآن ًّی قَالَ فَقَرَأَ فِيہِمَا بِالتَّوْحِيدِ قرآن وَقُلْ يَا أَيُّہَا الْكَافِرُون /قرآن َ وَقَالَ فِيہِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ بِالْكُوفَةِ قَالَ أَبِي ہَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْہُ جَابِرٌ فَذَہَبْتُ مُحَرِّشًا وَذَكَرَ قِصَّةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا
جناب جعفر (صادق) رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد (محمد باقر رحمہ اللہ) نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔اور یہ حدیث بیان کی۔اور اپنی حدیث پر ((واتخذوا من مقام إبراہیم مصلی)) کی جگہ یہ بات اپنی طرف سے بڑھائی کہ آپ نے ان رکعات میں توحید (یعنی) ((قل ہو اللہ أحد)) اور ((قل یا أیہا الکافرون)) کی تلاوت کی (یہ جملہ مدرج ہے۔) اور اس میں بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ کوفہ میں بیان کیا تھا۔میرے والد (محمد بن علی رحمہ اللہ) نے کہا کہ جابر نے یہ لفظ بھی نہیں کہے تھے کہ ’’میں غصے کے عالم میں جلدی سے گیا تھا۔“ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قصہ بیان کیا۔