Sunan Abi Dawood Hadith 1996 (سنن أبي داود)
[1996]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (935 وسندہ صحیح) مزاحم بن أبي مزاحم وثقہ ابن حبان والذہبي فی الکاشف والترمذي بتحسین حدیثہ فھو حسن الحدیث
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي مُزَاحِمٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَسِيدٍ عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ الْجِعْرَانَةِ فَجَاءَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَرَكَعَ مَا شَاءَ اللہُ ثُمَّ أَحْرَمَ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی رَاحِلَتِہِ فَاسْتَقْبَلَ بَطْنَ سَرِفَ حَتَّی لَقِيَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ فَأَصْبَحَ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ
سیدنا محرش کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جعرانہ میں تشریف لائے پھر مسجد میں آئے اور جو اللہ نے چاہا نماز پڑھی۔پھر آپ ﷺ نے احرام باندھا،پھر اپنی سواری پر درست ہو کر بیٹھ گئے اور دامن وادی سرف کا رخ کر لیا حتیٰ کہ مدینہ کی راہ پر جا ملے اور مکہ میں صبح کی،گویا کہ آپ ﷺ رات ہی سے یہیں تھے۔